☚ بعض انبیاء کو
دوسرے انبیاء
پر بعض
باتوں میں
فضیلت دی
گئی ہے:
اللہ
تعالیٰ
نے
انبیاء
کے
گروہ
میں
بعض
انبیاء
کو
دوسرے بعض انبیاء پر کچھ باتوں میں فضیلت دی ہے،جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بغیر فرشتے کےواسطے پردے
کے
پیچھے سے
طور
پہاڑ
پر
گفتگو
فرمائی،جب کہ دیگر بعض انبیاء کو دوسری طرح سے فضیلت دی گئی۔
☚ آخرت کا اصل سرمایہ :
اللہ
کے
راستے
میں
مال
خرچ
کرکے
آخرت
کی
تیاری
کرو،
جہاں
خرید
و
فروخت،
دوستی
اور
سفارش
کچھ
بھی
کام
نہیں
آئے
گا۔
☚ آیت الکرسی کا
مفہوم (اللہ کی
صفات): اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ ہے، پوری کائنات کے نظام کو سنبھالتا ہے، نیند اور اونگھ سے پاک ہے، آسمان اور زمین کی ہر چیز کا اصل مالک وہی ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی سفارش نہیں کر سکتا، اس کا علم اور معلومات سب پر محیط ہیں، آسمان اور زمین کی حکومت اس کے قبضے میں ہے اور ان کی حفاظت کا اس پر کوئی بوجھ نہیں ہے۔
☚ اسلام میں زبردستی
نہیں ہے : اسلام قبول کرنے میں کسی پر کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت اور گمراہی کے راستے واضح کر دیے گئے ہیں، ہر شخص اپنی مرضی سے ہدایت یا گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
☚ اللہ کی رہنمائی
اور شیطان
کی رہنمائی:
اللہ
تعالیٰ
ایمان
والوں
کو
اندھیرے )گمراہی(
سے
روشنی
)ہدایت(
کی
طرف
رہنمائی
فرماتا
ہے
اور
طاغوت
)شیطان اور
اس
کے
ساتھی) کافروں
کو
روشنی
سے
اندھیرے
کی
طرف
لے
جاتے
ہیں۔
☚ نمرود کے سامنے
حضرت ابراہیم
علیہ السلام کی عقلی
دلیل: حضرت
ابراہیم
علیہ
السلام
نے
اللہ
کا
تعارف
کرواتے
ہوئے
نمرود
کے
سامنے
دلیل
دی
کہ وہ زندگی اور موت کا مالک ہے،نمرود نے جب اس دلیل کے جواب میں ہٹ دھرمی دکھائی تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالیٰ
سورج
کو
مشرق
سے
نکالتا
ہے
اور
مغرب
میں
غروب
کرتا
ہے، اگر تُو رب ہے تو مغرب سے نکال کر دکھا، یہ بات سن کر وہ لاجواب ہو گیا۔
☚ اللہ تعالیٰ دوبارہ
زندہ کرنے
پر قادر
ہے: جیسے اللہ تعالیٰ نے زندگی دی، ویسے ہی وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے،اللہ تعالیٰ نے حضرت حزقیل علیہ السلام کو سو سال تک مردہ حالت میں رکھا پھر زندہ کیا، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذبح کیے گئے پرندوں کے اعضا جوڑ کر ان میں جان ڈال کر اپنی قدرت کا مشاہدہ کروایا۔
☚ سودی لین دین کی نحوست: سود لینے والے کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے، قیامت کے دن اسے پاگلوں کی طرح اٹھایا جائے گا، سودی لین دین سے مال کی برکتیں ختم ہو جاتی ہیں،جب کہ صدقہ مال کی برکتوں میں اضافہ کرتا ہے۔
☚ قرض کے معاملے کو
لکھنے کا اہتمام کرو: قرض کا لین دین لکھ کر اس پر گواہ بنا لو تاکہ بعد میں کوئی جھگڑا نہ ہو اور اگر قرضدار کے پاس ادائیگی کی سہولت نہ ہو تو اسے مہلت دو اور اگر اسے معاف کر دیا جائے تو یہ بہت فضیلت کی بات ہے، اور جب قرض یا کسی اور معاملے میں کسی کا حق
دلوانے کے لیے گواہی دینے کی ضرورت پیش آئے تو گواہی کو مت چھپاؤ۔
☚ بعض اہم دعائیں: اللہ تعالیٰ بندے کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلّف نہیں بناتے ہیں، اللہ سے دعا مانگتےرہو کہ: "اے اللہ! ہماری بھول چوک پر ہماری پکڑ نہ فرمانا، ہم پر پہلی امتوں جیسا بوجھ نہ ڈالنا، اورہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا،ہمیں در گزر فرما،معاف فرما ،ہم پر رحم فرما اور کافر قوم کے خلاف ہماری مدد فرما۔
سورۂ آل عمران
☚ قرآن میں دو قسم کی آیتیں ہیں:
(۱) وہ آیات جن کا مطلب بالکل واضح ہے، جن پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(۲) وہ آیات جن کا اصل مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس قسم کی آیات پر صرف ایمان لانا کافی ہے، ان کا عمل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس کے باوجود جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ اسی دوسری قسم کی آیات کے پیچھے پڑ کر لوگوں میں فتنہ پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔ اہلِ علم ایسی آیات پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ سے یہ دعا کرتے ہیں:اے اللہ! ہمیں ہدایت ملنے کے بعد گمراہی کی طرف جانے سے محفوظ فرما۔
☚ دنیا اور اس کی دولت کو بہت دلکش بنایا گیا ہے: دنیا اور اس کی دولت (جیسے عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی کے خزانے، سواریاں، مویشی وغیرہ) کو بہت پرکشش بنا دیا گیا ہے، لیکن ان کا وجود فانی ہے، جبکہ پرہیزگاروں کے لیے جو جنت بنائی گئی ہے وہ دنیا کے مقابلے میں زیادہ دلکش اور لافانی (ہمیشہ رہنے والی) ہے۔
☚ اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی قابلِ قبول دین ہے: یہود و نصاریٰ نے اس حقیقت کو جاننے کے با وجود اختلاف کرکے انکار کی راہ اپنائی ،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کواور آپ کے واسطے سے ہر داعی کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ آپ اسلام کی دعوت پیش کرو،اگر لوگ ضد کی راہ اپنائے تو فکر نہیں کرنی چاہیے ،اس لیے کہ داعی کے ذمہ صرف بات کو پہونچانا ہے ۔
☚ حکومت، عزت اور ذلت کے اختیارات صرف اللہ کے لیے ہیں: اللہ ہی حکومت، عزت اور ذلت سب کا مالک ہے، جسے چاہے دیتا ہے اور جس سے چاہے چھین لیتا ہے،زندگی ،موت ،رزق سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے۔
☚ دشمنانِ دین کے ساتھ دلی دوستیاں لگانے سے پرہیز کرو: اللہ کی طرف سے تمام مومنین کو با خبر کیا گیا ہے کہ وہ مومنوں کو چھوڑ کر دینِ اسلام کے دشمن کفّار کے ساتھ دلی دوستیاں نہ کریں،البتہ اپنے آپ کو ان کے شر سے بچانے کے لیے مناسب تدبیر کی جا سکتی ہے،اگر کوئی آدمی چھپ کر بھی ان کے ساتھ دوستیاں لگاتا ہے تو وہ اللہ سے مخفی نہیں رہ سکتی ،ایسے لوگوں سے دوستیاں لگا کر آخرت کا جو نقصان آدمی بروزِ قیامت دیکھے گا تو وہ تمنا کرے گا کہ کاش میرے اور اس (دشمنِ دین کافر دوست )کے درمیان ایک لمبا فاصلہ ہوتا ۔(کہ میری اور اس کی ملاقات ہی نہ ہوتی۔)
☚ اللہ کا محبوب بننے کا طریقہ:اللہ کا محبوب بننے اور اپنے گناہوں کی معافی کا واحد طریقہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کی جائے ۔
☚ اپنی اولاد کے بارے میں ہمیشہ اپنی نیّت اچھی رکھو:حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ نے حالتِ حمل میں اپنی ہونے والی اولاد کو مسجدِ اقصیٰ کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی منّت مانی تھی ، جب بچی کی ولادت ہوئی تو (مرد اور عورت کی صلاحیت میں فطری فرق ہونے کی وجہ سے )ان کو جھجھک ہوئی ،لیکن

0 Comments